ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / کرناٹک حجاب تنازع: چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 ججوں کی بینچ جمعرات کو کرے گی کیس کی سماعت

کرناٹک حجاب تنازع: چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 ججوں کی بینچ جمعرات کو کرے گی کیس کی سماعت

Thu, 10 Feb 2022 00:55:07    S.O. News Service

بنگلورو، 9 فروری (ایس او نیوز) کرناٹکا ہائی کورٹ کے چیف جسٹس ریتو راج اوستھی نے بدھ کوتین ججس پر مشتمل توسیعی بینچ تشکیل دی جس مں وہ خود بھی شامل ہیں، ان کے ساتھ ساتھ جسٹس کرشنا ایس ڈکشت اور جسٹس قاضی زیب النساء محی الدین کو بینچ میں شامل کیا گیا ہے۔ بینچ جمعرات کو حجاب کے معاملے پر سماعت کرے گا۔

آج بدھ کو حجاب کی سماعت کے دوسرے دن جب ہائی کورٹ کے جج جسٹس ڈکشت نے معاملے کی شنوائی کے لئے توسیعی بینچ کی سفارش کرتے ہوئے معاملے کو چیف جسٹس اوستھی کے حوالے کرنے کا فیصلہ سنایا تو فوری طور پر چیف جسٹس نے تین ججس پر مشتمل توسیعی بینچ تشکیل دی۔

بتاتے چلیں کہ تعلیمی اداروں کے باہر آج حالات پر سکون رہے جہاں حجاب کے سلسلے میں منگل کو حالات کشیدہ ہوگئے تھے جس کے بعد حکومت نے ریاست کے تمام ہائی اسکولوں اور کالجوں کو تین دنوں کے لئے بند کرنے کا حکم دیا تھا۔ پتہ چلا ہے کہ حکومت کے اس حکم کے بعد زیادہ تر تعلیمی اداروں نے آن لائن کلاسس کے ذریعے بچوں کی تعلیم جاری رکھی جبکہ ریاست بھرمیں پرائمری اسکولوں میں معمول کے مطابق کلاسس جاری رہے۔ 

جسٹس کرشنا ایس ڈکشت جو حجاب پر پابندی کے خلاف درخواستوں کے سنگل بیچ کی منگل سے سماعت کر رہے تھے نے کہا کہ اس مقدمہ کا ہر پہلو اہمیت کا حامل ہے اور اس میں کئی آئینی اُمور کا بھی دخل ہے اس لئے وہ سمجھتے ہیں کہ اس پر ایک توسیعی بینچ ہی غور کرسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملہ میں ہائی کورٹوں کی طرف سے تین فیصلے اور سپریم کورٹ کی طرف سے آدھے درجن سے زیادہ فیصلے صادر ہوئے ہیں، انہوں نے کہا کہ جمعرات کو سماعت کے دوران فریق کے وکیل نے بہت سارے نکات عدالت کے سامنے پیش کئے ہیں جس سے اس کیس کو سمجھنے میں ان کو کافی مدد ملی ہے۔ طالبات کی پیروی کرنے والے ایڈوکیٹ سنجے ہیگڈے اور طاہر نے اس موقع پر عدالت کے علم میں یہ بات لائی کہ تعلیمی سال ختم ہونے تک صرف دو ماہ کا عرصہ باقی ہے ایسے میں ان طالبات کو کلاسس میں جانے سے روکنا ان کو تعلیم سے محروم کرنے کے مترادف ہے اس لئے ان کو دو ماہ کی مہلت دی جائے۔ مگر ریاست کے ایڈوکیٹ جنرل پربھو لنگا نوادگی نے اس معاملہ میں کسی بھی طرح کے عبوری حکم کی مخالفت کی اور کہا کہ عرضی گذاروں کی طرف سے وکیل دیودت کامتھ نے اپنے تمام دلائل پیش کئے ہیں، لیکن ریاستی حکومت کی طرف سے انہوں نے اب تک عدالت کے سامنے اپنی بات نہیں رکھی، اس لئے عدالت اس معاملہ میں یکطرفہ فیصلہ نہیں لے سکتی۔ لیکن جسٹس کرشناڈکشت نے معاملہ کو ہائی کورٹ کی توسیعی بینچ کے سپرد کرنے کا حکم دیا اور رجسٹرار سے کہا کہ کیس سے متعلق تمام دستاویزات فوری طور پر چیف جسٹس کو پہنچادی جائیں۔ توسیعی بینچ کا حکم سناتے ہی چیف جسٹس نے فوری طور پر تین ججس پر مشتمل توسیعی بینچ بھی تشکیل دی جو کل جمعرات کو معاملے کی سماعت کرے گا۔

دریں اثنا، بنگلورو کے پولیس کمشنر کمل پنت نےبنگلور شہر کے اسکولوں، پری یونیورسٹی کالجوں اور ڈگری کالجوں کی گیٹ سے 200 میٹر کے دائرے تک  سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت امتناعی احکامات صادر کئے ہیں جس کے تحت  کسی بھی قسم کے اجتماع اوراحتجاج پر پابندی عائد رہے گی یہ احکامات دو ہفتوں کی مدت کے لیے یعنی 22 فروری تک جاری رہیں گے۔


Share: